بنگلورو،17؍فروری (ایس او نیوز) ایوان سیاست ودھان سودھا کے اطراف ہمیشہ سیاسی ہماہمی اور قائدین کی گہما گہمی رہتی ہے۔ لیکن ہفتہ کے دن یہاں کا منظر کچھ بدلا ہوا تھا۔ ودھان سودھا کے سامنے آج نیلی رنگ کی کاروں، دوپہیہ گاڑیوں اور آٹو رکشاؤں کی قطاریں دیکھی گئیں ۔ان نئی سواریوں کے اطراف سیاسی قائدین اور عوام کو دلچسپی سے نظارہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ایک طرف نئی سواریوں کے پارٹس، بیٹری اور چارجنگ کا طریقہ کار ، مائلیج اور گاڑیوں کی قیمت کے حوالے سے سوال جواب چل رہا تھا تو دوسری طرف ایک دستہ عوامی سوالات کاجواب دے رہاتھا۔اس درمیان ریاستی وزیراعلیٰ سدارامیا، بڑی درمیانی صنعت کے وزیر آر وی دیش پانڈے اور شہری ترقیات کے وزیر کے جے جارج الیکٹرک وہیکلس کا باضابطہ آغاز کیا۔ اس طرح بنگلور اور ریاستی سواری صنعت کا آغاز کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے ایک تاریخی باب کا افتتاح کردیا۔اس موقع پر ای وہیکلس سے متعلق ایک نیالوگو بھی جاری کیاگیا۔اس منظر سے ناظرین نے ایک دلچسپ خوشی محسوس کی۔ سیاسی قائدین کی جانب سے ای وہیکلس کو ہری جھنڈی دکھانے کے بعد بجلی سے چلنے والی سواریاں، کار،ٹووہیلرس اور آٹو رکشا ودھان سودھا کے احاطہ میں آزمائشی چکر لگاتے ہوئے نظر آئے ۔ وزیراعلیٰ سدارامیا و دیگر وزراء نے بھی الیکٹرک ٹووہیلرس کو چلاتے ہوئے آغاز کیا۔ ای وہیکلس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیش پانڈے نے کہا کہ یہ کرناٹک اور بنگلور کے حق میں ایک تاریخی دن ہے ۔حد سے زیادہ سواریوں کی تعداد سے فضائی آلودگی اورصوتی آلودگی بیماریو ں کا باعث بن رہی تھی، آلودگی کی زد میں آئی جدید طرز زندگی کوبجلی سے چلنے والی گاڑیوں سے راحت کی قوی امید ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بجلی سے چلنے والی سواریاں مستقبل کی پہلی پسند گاڑیاں ہوں گی۔ ہم مرحلہ وار بجلی سے چلنے والی سواریوں کا استعمال کرتے ہوئے ای وہیکلس میں اضافہ کریں گے ۔2020 تک ریاست کے ہر علاقے میں ای وہیکلس کو لانا ہمارا نشانہ و ہدف ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال بجلی سے چلنے والی سواریوں کی بیٹری کی قیمت گراں بار ہے ۔ یہ مہنگی بیٹریاں اگر عام عوام کی دسترس میں آجائیں تو ای وہیکلس کا استعمال وسیع تر ہوسکتا ہے ۔اس بات کے پیش نظر سرکاری پالیسی میں بہت ساری ترغیبی اقدامات شامل ہیں ۔ صنعت کارو ں کو چاہئے کہ وہ سرکاری پالیسی اور اس کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ای وہیکلس کوفروغ دینے میں حکومت کا ساتھ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبہ اور عام عوام دونوں کے لئے نفع رسانی کے مقصد سے ریاستی حکومت نے ای۔وہیکلس اور توانائی بچت پالیسی2017 عمل میں لائی ہے ۔ اس قسم کی پالیسی مرکزی حکومت یا دیگر ریاستوں میں کہیں بھی نہیں ہے ۔ اس پالیسی کو عمل میں لاتے ہوئے ہم نے ترقی کی سمت ایک نیا سنگ میل قیام کیا ہے۔دیش پانڈے نے مزید کہاکہ آبادی کے اضافہ سے وسیع سے وسیع تر ہورہے بنگلور جیسے شہر میں اطمینان و سکون کی زندگی کاماحول بنانا ناگزیر ہے۔سماع خراش آواز اور دبیز دھوئیں کے بغیر چلنے والی الیکٹرک سواریاں آج کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ صنعت شعبہ کو بھی چاہئے کہ وہ اس سے متعلق تکنیک کو مزید ترقی دیتے ہوئے قوی بنائیں ۔